صحيح بخاري حدیث نمبر: 5142
Sahih al-Bukhari 5142
کتاب #67: کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان
46: بَابُ لاَ يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَدَعَ:
باب: کسی مسلمان بھائی نے ایک عورت کو پیغام بھیجا ہو تو دوسرا شخص اس کو پیغام نہ بھیجے جب تک وہ اس سے نکاح نہ کرے یا پیغام نہ چھوڑ دے یعنی منگنی توڑ دے۔
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، كَانَ يَقُولُ: " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَلَا يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَتْرُكَ الْخَاطِبُ قَبْلَهُ، أَوْ يَأْذَنَ لَهُ الْخَاطِبُ".
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریج نے بیان کیا، کہا کہ میں نے نافع سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ہم کسی کے بھاؤ پر بھاؤ لگائیں اور کسی شخص کو اپنے کسی (دینی) بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام بھیجیں یہاں تک کہ پیغام بھیجنے والا اپنا ارادہ بدل دے یا اسے پیغام نکاح بھیجنے کی اجازت دے دے تو جائز ہے۔ [صحيح البخاري/حدیث: 5142]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Ibn `Umar:
The Prophet (ﷺ) decreed that one should not try to cancel a bargain already agreed upon between some other persons (by offering a bigger price). And a man should not ask for the hand of a girl who is already engaged to his Muslim brother, unless the first suitor gives her up, or allows him to ask for her hand.