صحيح بخاري حدیث نمبر: 4911
Sahih al-Bukhari 4911
کتاب #65: کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
1: بَابُ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاةَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} :
باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی! جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے اسے آپ اپنے لیے کیوں حرام قرار دے رہے ہیں، محض اپنی بیویوں کی خوشی حاصل کرنے کے لیے حالانکہ یہ آپ کے لیے زیبا نہیں ہے اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑی ہی رحمت کرنے والا ہے“۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ ابْنِ حَكِيمٍ هُوَ يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ الثَّقَفِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " فِي الْحَرَامِ يُكَفَّرُ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: 0 لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ إِسْوَةٌ حَسَنَةٌ 0".
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید قطان نے، ان سے ابن حکیم نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس نے کہا کہ اگر کسی نے اپنے اوپر کوئی حلال چیز حرام کر لی تو اس کا کفارہ دینا ہو گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «لقد كان لكم في رسول الله إسوة حسنة» یعنی ”بیشک تمہارے لیے تمہارے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔“ [صحيح البخاري/حدیث: 4911]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Ibn `Abbas:
If someone says to his wife, "You are unlawful to me." he must make an expiation (for his oath). Ibn `Abbas added: There is for you in Allah's Messenger (ﷺ), an excellent example to follow.