صحيح بخاري حدیث نمبر: 2407
Sahih al-Bukhari 2407
کتاب #43: کتاب: قرض لینے ادا کرنے حجر اور مفلسی منظور کرنے کے بیان میں
19: بَابُ مَا يُنْهَى عَنْ إِضَاعَةِ الْمَالِ:
باب: مال کو تباہ کرنا یعنی بے جا اسراف منع ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي أُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ، فَقَالَ: إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ"، فَكَانَ الرَّجُلُ يَقُولُهُ.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے عرض کیا کہ خرید و فروخت میں مجھے دھوکا دے دیا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب خرید و فروخت کیا کرو، تو کہہ دیا کر کہ کوئی دھوکا نہ ہو۔ چنانچہ پھر وہ شخص اسی طرح کہا کرتا تھا۔ [صحيح البخاري/حدیث: 2407]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Ibn `Umar:
A man came to the Prophet (ﷺ) and said, "I am often betrayed in bargaining." The Prophet (ﷺ) advised him, "When you buy something, say (to the seller), 'No deception." The man used to say so afterwards.