صحيح بخاري حدیث نمبر: 1994
Sahih al-Bukhari 1994
کتاب #30: کتاب: روزے کے مسائل کا بیان
67: بَابُ الصَّوْمِ يَوْمَ النَّحْرِ:
باب: عیدالاضحی کے دن کا روزہ رکھنا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ رَجُلٌ: نَذَرَ أَنْ يَصُومَ يَوْمًا، قَالَ: أَظُنُّهُ قَال: الِاثْنَيْنِ، فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ عِيدٍ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ، وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معاذ بن معاذ عنبری نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن عون نے خبر دی، ان سے زیاد بن جبیر نے بیان کیا کہ ایک شخص ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ ایک شخص نے ایک دن کے روزے کے نذر مانی۔ پھر کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ پیر کا دن ہے اور اتفاق سے وہی عید کا دن پڑ گیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تو نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے سے (اللہ کے حکم سے) منع فرمایا ہے۔ (گویا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کوئی قطعی فیصلہ نہیں دیا)۔ [صحيح البخاري/حدیث: 1994]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Ziyad bin Jubair:
A man went to Ibn `Umar I. and said, "A man vowed to fast one day (the sub-narrator thinks that he said that the day was Monday), and that day happened to be `Id day." Ibn `Umar said, "Allah orders vows to be fulfilled and the Prophet (ﷺ) forbade the fasting on this day (i.e. Id).