صحيح بخاري حدیث نمبر: 1486
Sahih al-Bukhari 1486
کتاب #24: کتاب: زکوۃ کے مسائل کا بیان
58: بَابُ مَنْ بَاعَ ثِمَارَهُ أَوْ نَخْلَهُ أَوْ أَرْضَهُ أَوْ زَرْعَهُ، وَقَدْ وَجَبَ فِيهِ الْعُشْرُ أَوِ الصَّدَقَةُ فَأَدَّى الزَّكَاةَ مِنْ غَيْرِهِ أَوْ بَاعَ ثِمَارَهُ وَلَمْ تَجِبْ فِيهِ الصَّدَقَةُ:
باب: جو شخص اپنا میوہ یا کھجور کا درخت یا کھیت بیچ ڈالے حالانکہ اس میں دسواں حصہ یا زکوٰۃ واجب ہو چکی ہو اب وہ اپنے دوسرے مال سے یہ زکوٰۃ ادا کرے تو یہ درست ہے یا وہ میوہ بیچے جس میں صدقہ واجب ہی نہ ہوا ہو۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا , وَكَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلَاحِهَا، قَالَ: حَتَّى تَذْهَبَ عَاهَتُهُ".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے عبداللہ بن دینار نے خبر دی ‘ کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو (درخت پر) اس وقت تک بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک اس کی پختگی ظاہر نہ ہو۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جب پوچھتے کہ اس کی پختگی کیا ہے، وہ کہتے کہ جب یہ معلوم ہو جائے کہ اب یہ پھل آفت سے بچ رہے گا۔ [صحيح البخاري/حدیث: 1486]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Ibn `Umar:
The Prophet (ﷺ) had forbidden the sale of dates till they were good (ripe), and when it was asked what it meant, the Prophet (ﷺ) said, "Till there is no danger of blight."