22: باب مَا جَاءَ فِي خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الْحَرْبِ
باب: جنگ میں عورتوں کے جانے کا بیان۔
سنن ترمذي حدیث نمبر: 1575
حدثنا بشر بن هلال الصواف، حدثنا جعفر بن سليمان الضبعي، عن ثابت، عن انس، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يغزو بام سليم ونسوة معها من الانصار، يسقين الماء، ويداوين الجرحى "، قال ابو عيسى: وفي الباب، عن الربيع بنت معوذ، وهذا حديث حسن صحيح.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم اور ان کے ہمراہ رہنے والی انصار کی چند عورتوں کے ساتھ جہاد میں نکلتے تھے، وہ پانی پلاتی اور زخمیوں کا علاج کرتی تھیں
۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ربیع بنت معوذ سے بھی روایت ہے۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجہاد 47 (1810)، سنن ابی داود/ الجہاد 34 (2531)، (تحفة الأشراف: 261)، (وانظر المعنی عند: صحیح البخاری/الجہاد 65 (2880)، ومناقب الأنصار 18 (3811)، والمغازي 18 (4064) (صحیح)
وضاحت: ۱؎: جہاد عورتوں پر واجب نہیں ہے، لیکن حدیث میں مذکور مصالح اور ضرورتوں کی خاطر ان کا جہاد میں شریک ہونا جائز ہے، حج مبرور ان کے لیے سب سے افضل جہاد ہے، جہاد میں انسان کو سفری صعوبتیں، مشقتیں، تکلیفیں برداشت کرنا پڑتی ہیں، مال خرچ کرنا پڑتا ہے، حج و عمرہ میں بھی ان سب مشقتوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے، اس لیے عورتوں کو حج و عمرہ کا ثواب جہاد کے برابر ملتا ہے، اسی بنا پر حج و عمرہ کو عورتوں کے لیے جہاد قرار دیا گیا ہے گویا جہاد کا ثواب اسے حج و عمرہ ادا کرنے کی صورت میں مل جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (2284)