4: باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ
باب: سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر۔
سنن ترمذي حدیث نمبر: 3006
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن عثمان بن المغيرة، عن علي بن ربيعة، عن اسماء بن الحكم الفزاري، قال: سمعت عليا، يقول: إني كنت رجلا إذا سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا نفعني الله منه بما شاء ان ينفعني، وإذا حدثني رجل من اصحابه استحلفته، فإذا حلف لي صدقته، وإنه حدثني ابو بكر وصدق ابو بكر، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " ما من رجل يذنب ذنبا ثم يقوم فيتطهر، ثم يصلي ثم يستغفر الله إلا غفر له، ثم قرا هذه الآية والذين إذا فعلوا فاحشة او ظلموا انفسهم ذكروا الله فاستغفروا سورة آل عمران آية 135 إلى آخر الآية "، قال ابو عيسى: هذا حديث قد رواه شعبة وغير واحد، عن عثمان بن المغيرة، فرفعوه ورواه مسعر، وسفيان، عن عثمان بن المغيرة فلم يرفعاه، وقد رواه بعضهم، عن مسعر فاوقفه ورفعه بعضهم، ورواه سفيان الثوري، عن عثمان بن المغيرة فاوقفه، ولا نعرف لاسماء بن الحكم حديثا إلا هذا.
اسماء بن حکم فزاری کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا: جب میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنی تو اللہ نے مجھے جتنا فائدہ پہنچانا چاہا پہنچایا، اور جب مجھ سے آپ کا کوئی صحابی حدیث بیان کرتا تو میں اسے قسم کھلاتا پھر جب وہ میرے کہنے سے قسم کھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا۔ اور بیشک مجھ سے ابوبکر رضی الله عنہ نے حدیث بیان کی اور بالکل سچ بیان کی، کہا: میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا
”جو کوئی بھی شخص کوئی گناہ کرتا ہے پھر وہ کھڑا ہوتا ہے پھر پاکی حاصل کرتا ہے پھر نماز پڑھتا ہے، اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے تو اللہ اسے بخش دیتا ہے
“، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
«والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذكروا الله» ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس حدیث کو شعبہ اور دیگر کئی لوگوں نے عثمان بن مغیرہ سے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے اسے مرفوع روایت کیا ہے جب کہ مسعر اور سفیان نے عثمان بن مغیرہ سے روایت کیا ہے لیکن ان دونوں نے اسے مرفوع روایت نہیں کیا۔ اور بعض لوگوں نے اسے مسعر سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ اور بعض لوگوں نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ اور سفیان ثوری نے عثمان بن مغیرہ سے موقوفاً روایت کیا ہے،
۲- اسماء بن حکم سے اس روایت کے سوا کوئی دوسری روایت ہم نہیں جانتے۔
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم 406 (صحیح)
وضاحت: ۱؎: ”جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہو جائے یا کوئی گناہ کر بیٹھیں تو فوراً اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کے لیے استغفار کرتے ہیں“ (آل عمران: ۱۳۵)۔
قال الشيخ الألباني: حسن، ابن ماجة (1359)