احادیث کے تمام کتب میں حدیث تلاش کیجئیے

169: باب فِي الْعَدُوِّ يُؤْتَى عَلَى غِرَّةٍ وَيُتَشَبَّهُ بِهِمْ
باب: دشمن کے پاس دھوکہ سے پہنچنا اور یہ ظاہر کرنا کہ وہ انہی میں سے ہے اور اسے قتل کرنا جائز ہے۔
سنن ابي داود حدیث نمبر: 2768
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن جابر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"من لكعب بن الاشرف فإنه قد آذى الله ورسوله، فقام محمد بن مسلمة فقال: انا يا رسول الله، اتحب ان اقتله قال: نعم قال: فاذن لي ان اقول شيئا قال: نعم قل، فاتاه فقال: إن هذا الرجل قد سالنا الصدقة وقد عنانا قال: وايضا لتملنه قال: اتبعناه فنحن نكره ان ندعه حتى ننظر إلى اي شيء يصير امره، وقد اردنا ان تسلفنا وسقا او وسقين قال كعب: اي شيء ترهنوني ؟ قال: وما تريد منا ؟ قال: نساءكم، قالوا: سبحان الله انت اجمل العرب ! نرهنك نساءنا فيكون ذلك عارا علينا قال: فترهنوني اولادكم، قالوا: سبحان الله يسب ابن احدنا فيقال رهنت بوسق او وسقين قالوا: نرهنك اللامة يريد السلاح قال: نعم فلما اتاه ناداه، فخرج إليه وهو متطيب ينضح راسه، فلما ان جلس إليه وقد كان جاء معه بنفر ثلاثة او اربعة فذكروا له، قال: عندي فلانة وهي اعطر نساء الناس قال: تاذن لي فاشم قال: نعم فادخل يده في راسه فشمه قال: اعود ؟ قال: نعم، فادخل يده في راسه فلما استمكن منه قال: دونكم فضربوه حتى قتلوه".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو کعب بن اشرف ۱؎ کے قتل کا بیڑا اٹھائے؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے، یہ سن کر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور بولے: اللہ کے رسول! میں، کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس کو قتل کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ مجھے اجازت دیجئیے کہ میں کچھ کہہ سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، کہہ سکتے ہو، پھر انہوں نے کعب کے پاس آ کر کہا: اس شخص (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہم سے صدقے مانگ مانگ کر ہماری ناک میں دم کر رکھا ہے، کعب نے کہا: ابھی کیا ہے؟ تم اور اکتا جاؤ گے، اس پر انہوں نے کہا: ہم اس کی پیروی کر چکے ہیں اب یہ بھی اچھا نہیں لگتا کہ اس کا ساتھ چھوڑ دیں جب تک کہ اس کا انجام نہ دیکھ لیں کہ کیا ہوتا ہے؟ ہم تم سے یہ چاہتے ہیں کہ ایک وسق یا دو وسق اناج ہمیں بطور قرض دے دو، کعب نے کہا: تم اس کے عوض رہن میں میرے پاس کیا رکھو گے؟ محمد بن مسلمہ نے کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ کعب نے کہا: اپنی عورتوں کو رہن رکھ دو، انہوں نے کہا: سبحان الله! تم عربوں میں خوبصورت ترین آدمی ہو، اگر ہم اپنی عورتوں کو تمہارے پاس گروی رکھ دیں تو یہ ہمارے لیے عار کا سبب ہو گا، اس نے کہا: اپنی اولاد کو رکھ دو، انہوں نے کہا: سبحان الله! جب ہمارا بیٹا بڑا ہو گا تو لوگ اس کو طعنہ دیں گے کہ تو ایک وسق یا دو وسق کے بدلے گروی رکھ دیا گیا تھا، البتہ ہم اپنا ہتھیار تمہارے پاس گروی رکھ دیں گے، کعب نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر جب محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کعب کے پاس گئے اور اس کو آواز دی تو وہ خوشبو لگائے ہوئے نکلا، اس کا سر مہک رہا تھا، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ابھی بیٹھے ہی تھے کہ ان کے ساتھ تین چار آدمی جو اور تھے سبھوں نے اس کی خوشبو کا ذکر شروع کر دیا، کعب کہنے لگا کہ میرے پاس فلاں عورت ہے جو سب سے زیادہ معطر رہتی ہے، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم اجازت دیتے ہو کہ میں (تمہارے بال) سونگھوں؟ اس نے کہا: ہاں، تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اس کے سر میں ڈال کر سونگھا، پھر دوبارہ اجازت چاہی اس نے کہا: ہاں، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا، پھر جب اسے مضبوطی سے پکڑ لیا تو (اپنے ساتھیوں سے) کہا: پکڑو اسے، پھر ان لوگوں نے اس پر وار کیا یہاں تک کہ اسے مار ڈالا۔

تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الرھن 3 (2510)، والجھاد 158 (3031)، والمغازي 15 (4037)، صحیح مسلم/الجھاد 42 (1801)، (تحفة الأشراف: 2524)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ (8641) (صحیح)

وضاحت: ۱؎: کعب بن اشرف یہودیوں کا سردار تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتا تھا، دوسروں کو بھی اس پر ابھارتا تھا اس کے ساتھ ساتھ عہد شکنی کا مجرم بھی تھا اسی لئے آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

Share this: