احادیث کے تمام کتب میں حدیث تلاش کیجئیے

24: باب فِي الطِّيَرَةِ
باب: بدشگونی اور فال بد لینے کا بیان۔
سنن ابي داود حدیث نمبر: 3919
حدثنا احمد بن حنبل، وابو بكر بن شيبة المعنى، قال: حدثنا وكيع، عن سفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن عروة بن عامر، قال احمد، القرشي قال:"ذكرت الطيرة عند النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: احسنها الفال ولا ترد مسلما فإذا راى احدكم ما يكره، فليقل اللهم لا ياتي بالحسنات إلا انت، ولا يدفع السيئات إلا انت، ولا حول ولا قوة إلا بك".
عروہ بن عامر قرشی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس طیرہ (بدشگونی) کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اس کی سب سے اچھی قسم نیک فال، اور اچھا (شگون) ہے، اور فال (شگون) کسی مسلمان کو اس کے ارادہ سے باز نہ رکھے پھر جب تم میں سے کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے ناگوار ہو تو وہ یہ دعا پڑھے: «اللهم لا يأتي بالحسنات إلا أنت ولا يدفع السيئات إلا أنت ولا حول ولا قوة إلا بك» اے اللہ! تیرے سوا کوئی بھلائی نہیں پہنچا سکتا اور سوائے تیرے کوئی برائیوں کو روک بھی نہیں سکتا اور برائی سے باز رہنے اور نیکی کے کام کرنے کی طاقت و قوت صرف تیری توفیق ہی سے ملتی ہے۔

تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9899) (ضعیف) (اس کے راوی عروہ قرشی تابعی ہیں اس لئے یہ روایت مرسل ہے)

قال الشيخ الألباني: ضعيف

قال الشيخ زبیر علی زئی في انوار الصحیفة فی احادیث ضعیفة من السنن الاربعة:
إسناده ضعيف ¤ سفيان الثوري وحبيب عنعنا (تقدما:130،298)

Share this: