احادیث کے تمام کتب میں حدیث تلاش کیجئیے

22: باب فِي الْقُرْآنِ
باب: قرآن کے کلام اللہ ہونے کا بیان۔
سنن ابي داود حدیث نمبر: 4738
حدثنا احمد بن ابي سريج الرازي، وعلي بن الحسين ابن إبراهيم، وعلي بن مسلم، قالوا: اخبرنا ابو معاوية، انبانا الاعمش، عن مسلم، عن مسروق، عن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"إذا تكلم الله بالوحي، سمع اهل السماء للسماء صلصلة، كجر السلسلة على الصفا، فيصعقون، فلا يزالون كذلك حتى ياتيهم جبريل، حتى إذا جاءهم جبريل فزع عن قلوبهم، قال: فيقولون: يا جبريل، ماذا قال ربك ؟ فيقول: الحق، فيقولون: الحق، الحق".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ وحی کے لیے کلام کرتا ہے تو سبھی آسمان والے آواز سنتے ہیں جیسے کسی چکنے پتھر پر زنجیر کھینچی جا رہی ہو، پھر وہ بیہوش کر دئیے جاتے ہیں اور اسی حال میں رہتے ہیں یہاں تک کہ ان کے پاس جبرائیل آتے ہیں، جب جبرائیل ان کے پاس آتے ہیں تو ان کی غشی جاتی رہتی ہے، پھر وہ کہتے ہیں: اے جبرائیل! تمہارے رب نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں: حق (فرمایا) تو وہ سب کہتے ہیں حق (فرمایا) حق (فرمایا)۔

تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9580)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التوحید 31 (عقیب 7480تعلیقًا) (صحیح)

قال الشيخ الألباني: صحيح

Share this: