49: باب الطَّوَافِ الْوَاجِبِ
باب: طواف واجب کا بیان۔
سنن ابي داود حدیث نمبر: 1882
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن محمد بن عبد الرحمن بن نوفل، عن عروة بن الزبير، عن زينب بنت ابي سلمة، عن ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، انها قالت: شكوت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم اني اشتكي، فقال:"طوفي من وراء الناس وانت راكبة"، قالت: فطفت ورسول الله صلى الله عليه وسلم حينئذ يصلي إلى جنب البيت وهو يقرا ب: الطور وكتاب مسطور.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے طواف کر لو ۱؎“، تو میں نے طواف کیا اور آپ خانہ کعبہ کے پہلو میں اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، اور «الطور * وكتاب مسطور» کی تلاوت فرما رہے تھے۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 78 (464)، الحج 64 (1619)، 71 (1626)، 74 (1633)، تفسیر سورة الطور 1 (4853)، صحیح مسلم/الحج 42 (1276)، سنن النسائی/الحج 138 (2928)، سنن ابن ماجہ/المناسک 34 (2961)، (تحفة الأشراف: 18262)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 40 (123)، مسند احمد (6/290، 319) (صحیح)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیماری اور کمزوری کی حالت میں سوار ہو کر طواف کرنا درست ہے، اور آج کل سواری پر طواف چوں کہ ناممکن ہے اس لئے اس کی جگہ پر مخصوص لوگ حجاج کو چارپائی پر بٹھا کر طواف کراتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح