احادیث کے تمام کتب میں حدیث تلاش کیجئیے

5: باب الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ
باب: دو نمازوں کو جمع کرنے کا بیان۔
سنن ابي داود حدیث نمبر: 1211
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن حبيب بن ابي ثابت، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال:"جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم بين الظهر والعصر، والمغرب والعشاء بالمدينة من غير خوف ولا مطر"، فقيل لابن عباس: ما اراد إلى ذلك ؟ قال: اراد ان لا يحرج امته.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں بلا کسی خوف اور بارش کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو ملا کر پڑھا، ابن عباس سے پوچھا گیا: اس سے آپ کا کیا مقصد تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ اپنی امت کو کسی زحمت میں نہ ڈالیں ۱؎۔

تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 6 (705) سنن الترمذی/ الصلاة 1 (187)، سنن النسائی/المواقیت 46 (603)، (تحفة الأشراف: 5474)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/354) (صحیح)

وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ حالت قیام میں بغیر کسی خوف اور بارش کے جمع بین الصلاتین بوقت ضرورت جائز ہے، سنن ترمذی میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی یہ روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو دو نماز کو بغیر کسی عذر کے جمع کرے تو وہ بڑے گناہوں کے دروازوں میں سے ایک دروازے میں داخل ہو گیا ضعیف ہے، اس کی اسناد میں حنش بن قیس راوی ضعیف ہے، اس لئے یہ استدلال کے لائق نہیں، ابن الجوزی نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے، اور یہ ضعیف حدیث ان صحیح روایات کی معارض نہیں ہو سکتی جن سے جمع کرنا ثابت ہوتا ہے، اور بعض لوگ جو یہ تاویل کرتے ہیں کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بیماری کی وجہ سے ایسا کیا ہو تو یہ بھی صحیح نہیں کیوں کہ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس قول کے منافی ہے کہ اس (جمع بین الصلاتین) سے مقصود یہ تھا کہ امت حرج میں نہ پڑے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

Share this: