احادیث کے تمام کتب میں حدیث تلاش کیجئیے

23: باب الدُّعَاءِ
باب: دعا کا بیان۔
سنن ابي داود حدیث نمبر: 1495
حدثنا عبد الرحمن بن عبيد الله الحلبي، حدثنا خلف بن خليفة، عن حفص يعني ابن اخي انس، عن انس، انه كان مع رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسا ورجل يصلي، ثم دعا: اللهم إني اسالك بان لك الحمد، لا إله إلا انت المنان بديع السموات والارض، يا ذا الجلال والإكرام، يا حي يا قيوم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:"لقد دعا الله باسمه العظيم الذي إذا دعي به اجاب، وإذا سئل به اعطى".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا، (نماز سے فارغ ہو کر) اس نے دعا مانگی: «اللهم إني أسألك بأن لك الحمد لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض يا ذا الجلال والإكرام يا حى يا قيوم» اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ: ساری و حمد تیرے لیے ہے، تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں، تو ہی احسان کرنے والا اور آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے، اے جلال اور عطاء و بخشش والے، اے زندہ جاوید، اے آسمانوں اور زمینوں کو تھامنے والے! یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم (عظیم نام) کے حوالے سے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے حوالے سے دعا مانگی جاتی ہے تو وہ دعا قبول فرماتا ہے اور سوال کیا جاتا ہے تو وہ دیتا ہے۔

تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/السہو 58 (1299)، (تحفة الأشراف:551)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 100 (3544)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 9 (3858)، مسند احمد (3/120، 158، 245) (صحیح)

قال الشيخ الألباني: صحيح

Share this: