احادیث کے تمام کتب میں حدیث تلاش کیجئیے

19: باب فِيمَنْ بَاعَ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ
باب: ایک بیع میں دو بیع کرنے کی ممانعت۔
سنن ابي داود حدیث نمبر: 3461
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، عن يحيى بن زكريا، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:"من باع بيعتين في بيعة فله اوكسهما او الربا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک معاملہ میں دو طرح کی بیع کی تو جو کم والی ہو گی وہی لاگو ہو گی (اور دوسری ٹھکرا دی جائے گی) کیونکہ وہ سود ہو جائے گی ۱؎۔

تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15105)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 18 (1231)، سنن النسائی/البیوع 73 (7/4636)، موطا امام مالک/البیوع 33 (73)، مسند احمد (2/432، 475، 503) (حسن)

وضاحت: ۱؎: «بيعتين في بيعة» ایک چیز کے بیچنے میں دو طرح کی بیع کرنا جیسے بیچنے والا خریدنے والے سے یہ کہے کہ یہ کپڑا ایک دینار کا ہے اور یہ دو دینار کا اور خریدنے والے کو دونوں میں سے ایک لینا پڑے، بعض لوگوں نے کہا کہ اس کی مثال یہ ہے کہ بیچنے والا خریدنے والے سے کہے کہ میں نے تمہارے ہاتھ یہ کپڑا نقد دس روپیہ میں اور ادھار پندرہ میں بیچا، بعضوں نے کہا: بیچنے والا خریدار سے کہے کہ میں نے اپنا باغ تمہارے ہاتھ اس شرط سے بیچا کہ تم اپنا گھر میرے ہاتھ بیچو، مگر دوسری صورت اس حدیث کے مضمون سے زیادہ مناسب ہے کیونکہ ایک چیز کی دو بیع میں دو قیمتیں کم اور زیادہ ہیں، اور اگر کم کو اختیار نہ کرے تو سود لازم ہو گا، ایک بیع میں دو بیع کی تشریح ابن القیم نے اس طرح کی ہے: بیچنے والا خریدنے والے کے ہاتھ کوئی سامان سو روپے ادھار پر بیچے، پھر خریدار سے اسی سامان کو اسی روپے نقد پر خرید لے، چونکہ یہ بیع سود تک پہنچانے والی ہے اس لئے ناجائز ہے۔

قال الشيخ الألباني: حسن

Share this: