احادیث کے تمام کتب میں حدیث تلاش کیجئیے

77: باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَتَكَنَّى وَلَيْسَ لَهُ وَلَدٌ
باب: آدمی کنیت رکھے اور اس کی کوئی اولاد نہ ہو تو کیسا ہے؟
سنن ابي داود حدیث نمبر: 4969
حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد، حدثنا ثابت، عن انس بن مالك، قال:"كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدخل علينا، ولي اخ صغير يكنى: ابا عمير، وكان له نغر يلعب به فمات، فدخل عليه النبي صلى الله عليه وسلم ذات يوم، فرآه حزينا , فقال: ما شانه ؟ قالوا: مات نغره , فقال: يا ابا عمير، ما فعل النغير".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں آتے تھے، اور میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کی کنیت ابوعمیر تھی، اس کے پاس ایک چڑیا تھی، وہ اس سے کھیلتا تھا، وہ مر گئی، پھر ایک دن اچانک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے تو اسے رنجیدہ و غمگین دیکھ کر فرمایا: کیا بات ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اس کی چڑیا مر گئی، تو آپ نے فرمایا: اے ابوعمیر! کیا ہوا نغیر (چڑیا) کو؟۔

تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 378)، وقد أخرجہ: خ /الأدب 81 (6129)، صحیح مسلم/الأداب 5 (2150)، سنن الترمذی/الصلاة 131 (333)، سنن ابن ماجہ/الأدب 24 (3720)، 34، مسند احمد (3 /115، 119، 171، 190، 201، 223، 278) (صحیح)

قال الشيخ الألباني: صحيح

Share this: