26: باب فِي رَجْمِ الْيَهُودِيَّيْنِ
باب: دو یہودیوں کے رجم کا بیان۔
سنن ابي داود حدیث نمبر: 4451
حدثنا عبد العزيز بن يحيى ابو الاصبغ الحراني، حدثني محمد يعني ابن سلمة، عن محمد بن إسحاق، عن الزهري، قال: سمعت رجلا من مزينة، يحدث سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال:"زنى رجل وامراة من اليهود وقد احصنا حين قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة، وقد كان الرجم مكتوبا عليهم في التوراة، فتركوه واخذوا بالتجبيه يضرب مائة بحبل مطلي بقار ويحمل على حمار وجهه مما يلي دبر الحمار، فاجتمع احبار من احبارهم، فبعثوا قوما آخرين إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالوا: سلوه عن حد الزاني، وساق الحديث، فقال فيه: قال: ولم يكونوا من اهل دينه فيحكم بينهم، فخير في ذلك، قال: فإن جاءوك فاحكم بينهم او اعرض عنهم سورة المائدة آية 42".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہود کے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا وہ دونوں شادی شدہ تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ آئے تو تورات میں رجم کا حکم تحریر تھا، لیکن انہوں نے اسے چھوڑے رکھا تھا اور اس کے بدلہ «تَجبیہ» کو اختیار کر لیا تھا، تارکول ملی ہوئی رسی سے اسے سو بار مارا جاتا، اسے گدھے پر سوار کیا جاتا اور اس کا چہرہ گدھے کے پچھاڑی کی طرف ہوتا، تو ان کے علماء میں سے کچھ عالم اکٹھا ہوئے ان لوگوں نے کچھ لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور کہا جا کر ان سے زنا کی حد کے متعلق پوچھو، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: چونکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر نہیں تھے کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں اسی لیے آپ کو اس سلسلہ میں اختیار دیا گیا اور فرمایا گیا «فإن جاءوك فاحكم بينهم أو أعرض عنهم» ”اگر وہ تمہارے پاس آئیں تو تمہیں اختیار ہے چاہو تو ان کے درمیان فیصلہ کر دو اور چاہو تو ٹال دو (سورۃ المائدہ: ۴۲)۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، انظر حدیث(488)، (تحفة الأشراف: 15492) (ضعیف)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی في انوار الصحیفة فی احادیث ضعیفة من السنن الاربعة:
إسناده ضعيف / انظر الحديث السابق:4450