118: باب رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں رفع یدین (دونوں ہاتھ اٹھانے) کا بیان۔
سنن ابي داود حدیث نمبر: 723
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة الجشمي، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، قال: حدثنا محمد بن جحادة، حدثني عبد الجبار بن وائل بن حجر، قال: كنت غلاما لا اعقل صلاة ابي، قال: فحدثني وائل بن علقمة، عن ابي وائل بن حجر، قال:"صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان إذا كبر رفع يديه، قال: ثم التحف ثم اخذ شماله بيمينه وادخل يديه في ثوبه، قال: فإذا اراد ان يركع اخرج يديه ثم رفعهما، وإذا اراد ان يرفع راسه من الركوع رفع يديه ثم سجد ووضع وجهه بين كفيه، وإذا رفع راسه من السجود ايضا رفع يديه حتى فرغ من صلاته"، قال محمد: فذكرت ذلك للحسن بن ابي الحسن، فقال: هي صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فعله من فعله وتركه من تركه، قال ابو داود: روى هذا الحديث همام، عن ابن جحادة، لم يذكر الرفع مع الرفع من السجود.
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ نے تکبیر (تحریمہ) کہی تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑا، اور انہیں اپنے کپڑے میں داخل کر لیا، جب آپ نے رکوع کا ارادہ کیا تو اپنے دونوں ہاتھ (چادر سے) نکالے پھر رفع یدین کیا، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھانے کا ارادہ کیا تو رفع یدین کیا، پھر سجدہ کیا اور اپنی پیشانی کو دونوں ہتھیلیوں کے بیچ میں رکھا، اور جب سجدے سے اپنا سر اٹھایا تو رفع یدین ۱؎ کیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو گئے۔ محمد کہتے ہیں: میں نے حسن بصری سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے، کرنے والوں نے ایسا ہی کیا اور چھوڑنے والوں نے اسے چھوڑ دیا۔ أبوداود کہتے ہیں: اس حدیث کو ہمام نے بھی ابن جحادہ سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے سجدے سے اٹھتے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں کیا ہے۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 15 (401)، (تحفة الأشراف: 11774، 11788)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح 11 (890)، الافتتاح 139 (1103)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 3 (810)، مسند احمد (4/317، 318)، سنن الدارمی/الصلاة 35 (1217)، 92 (1397) (ولیس عند أحد ذکر رفع الیدین مع الرفع من السجود) (صحیح)
وضاحت: ۱؎: مؤلف کے سوا کسی کے یہاں بھی سجدے سے اٹھتے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں ہے، اکثر علماء کے نزدیک مؤلف کی یہ روایت منسوخ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی في انوار الصحیفة فی احادیث ضعیفة من السنن الاربعة:
شاذ ¤ وقوله ” و إذا رفع رأسه من السجود أيضاً رفع يديه “ شاذ مخالف لحديث مسلم (401) وغيره و معنا إن صح : ” إذا رفع رأسه من السجود الركعة الثانية و أراد أن التشھيد رفع يديه ۔