احادیث کے تمام کتب میں حدیث تلاش کیجئیے

56: 56- بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا» :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ میرے لیے ساری زمین پر نماز پڑھنے اور پاکی حاصل کرنے (یعنی تیمم کرنے) کی اجازت ہے۔
صحيح بخاري حدیث نمبر: 438
حدثنا محمد بن سنان، قال: حدثنا هشيم، قال: حدثنا سيار هو ابو الحكم، قال: حدثنا يزيد الفقير، قال: حدثنا جابر بن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"اعطيت خمسا لم يعطهن احد من الانبياء قبلي نصرت بالرعب مسيرة شهر، وجعلت لي الارض مسجدا وطهورا، وايما رجل من امتي ادركته الصلاة فليصل واحلت لي الغنائم، وكان النبي يبعث إلى قومه خاصة، وبعثت إلى الناس كافة، واعطيت الشفاعة".
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوالحکم سیار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید فقیر نے، کہا ہم سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے انبیاء کو نہیں دی گئی تھیں۔ (1) ایک مہینے کی راہ سے میرا رعب ڈال کر میری مدد کی گئی۔ (2) میرے لیے تمام زمین میں نماز پڑھنے اور پاکی حاصل کرنے کی اجازت ہے۔ اس لیے میری امت کے جس آدمی کی نماز کا وقت (جہاں بھی) آ جائے اسے (وہیں) نماز پڑھ لینی چاہیے۔ (3) میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا۔ (4) پہلے انبیاء خاص اپنی قوموں کی ہدایت کے لیے بھیجے جاتے تھے۔ لیکن مجھے دنیا کے تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا ہے۔ (5) مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے۔

Share this: