احادیث کے تمام کتب میں حدیث تلاش کیجئیے

4: 4- بَابُ لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ:
باب: اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھاؤ۔
صحيح بخاري حدیث نمبر: 6649
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الوهاب، عن ايوب، عن ابي قلابة، والقاسم التميمي، عن زهدم، قال: كان بين هذا الحي من جرم، وبين الاشعريين ود وإخاء، فكنا عند ابي موسى الاشعري، فقرب إليه طعام فيه لحم دجاج، وعنده رجل من بني تيم الله احمر كانه من الموالي، فدعاه إلى الطعام، فقال: إني رايته ياكل شيئا فقذرته، فحلفت ان لا آكله، فقال: قم فلاحدثنك عن ذاك، إني اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في نفر من الاشعريين نستحمله، فقال:"والله لا احملكم وما عندي ما احملكم عليه"، فاتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بنهب إبل، فسال عنا، فقال:"اين النفر الاشعريون"، فامر لنا بخمس ذود غر الذرى، فلما انطلقنا، قلنا: ما صنعنا حلف رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يحملنا وما عنده ما يحملنا، ثم حملنا، تغفلنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يمينه، والله لا نفلح ابدا، فرجعنا إليه، فقلنا له: إنا اتيناك لتحملنا، فحلفت ان لا تحملنا وما عندك ما تحملنا، فقال:"إني لست انا حملتكم، ولكن الله حملكم، والله لا احلف على يمين فارى غيرها خيرا منها، إلا اتيت الذي هو خير، وتحللتها".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ اور قاسم تیمی نے اور ان سے زہدم نے بیان کیا کہ ان قبائل، جرم اور اشعر کے درمیان بھائی چارہ تھا۔ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھے تو ان کے لیے کھانا لایا گیا۔ اس میں مرغی بھی تھی۔ ان کے پاس بنی تیم اللہ کا ایک سرخ رنگ کا آدمی بھی موجود تھا۔ غالباً وہ غلاموں میں سے تھا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اسے کھانے پر بلایا تو اس نے کہا کہ میں نے مرغی کو گندگی کھاتے دیکھا تو مجھے گھن آئی اور پھر میں نے قسم کھا لی کہ اب میں اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کھڑے ہو جاؤ تو میں تمہیں اس کے بارے میں ایک حدیث سناؤں۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کے ساتھ آیا اور ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کا جانور مانگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہیں سواری نہیں دے سکتا اور نہ میرے پاس ایسا کوئی جانور ہے جو تمہیں سواری کے لیے دے سکوں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال غنیمت کے اونٹ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اشعری لوگ کہاں ہیں پھر آپ نے ہم کو پانچ عمدہ قسم کے اونٹ دئیے جانے کا حکم فرمایا۔ جب ہم ان کو لے کر چلے تو ہم نے کہا یہ ہم نے کیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو قسم کھا چکے تھے کہ ہم کو سواری نہیں دیں گے اور درحقیقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت سواری موجود بھی نہ تھی پھر آپ نے ہم کو سوار کرا دیا۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی قسم سے غافل کر دیا۔ قسم اللہ کی ہم اس حرکت کے بعد کبھی فلاح نہیں پا سکیں گے۔ پس ہم آپ کی طرف لوٹ کر آئے اور آپ سے ہم نے تفصیل بالا کو عرض کیا کہ ہم آپ کے پاس آئے تھے تاکہ آپ ہم کو سواری پر سوار کرا دیں پس آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ ہم کو سوار نہیں کرائیں گے اور درحقیقت اس وقت آپ کے پاس سواری موجود بھی نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب سن کر فرمایا کہ میں نے تم کو سوار نہیں کرایا بلکہ اللہ نے تم کو سوار کرا دیا۔ اللہ کی قسم جب میں کوئی قسم کھا لیتا ہوں بعد میں اس سے بہتر اور معاملہ دیکھتا ہوں تو میں وہی کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے اور اس قسم کا کفارہ ادا کر دیتا ہوں۔

Share this: