جامع الترمذي حدیث نمبر: 956
Jami at-Tirmidhi 956
کتاب #10: کتاب: حج کے احکام و مناسک
109: باب
باب: حج سے متعلق ایک اور باب۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ، قَال: سَمِعْتُ مَرْوَانَ الْأَصْفَرَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ " عَلِيًّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْيَمَنِ، فَقَالَ: " بِمَ أَهْلَلْتَ؟ " قَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْلَا أَنَّ مَعِي هَدْيًا لَأَحْلَلْتُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یمن سے آئے تو آپ نے پوچھا : ” تم نے کیا تلبیہ پکارا ، اور کون سا احرام باندھا ہے ؟ “ انہوں نے عرض کیا : میں نے وہی تلبیہ پکارا ، اور اسی کا احرام باندھا ہے جس کا تلبیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا ، اور جو احرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے ۱؎ آپ نے فرمایا : ” اگر میرے ساتھ ہدی کے جانور نہ ہوتے تو میں احرام کھول دیتا “ ۲؎ ، © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 956]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنے احرام کو دوسرے کے احرام پر معلق کرنا جائز ہے۔
۲؎: یعنی: عمرہ کے بعد احرام کھول دیتا، پھر ۸ ذی الحجہ کو حج کے لیے دوبارہ احرام باندھنا، جیسا کہ حج تمتع میں کیا جاتا ہے، مذکورہ مجبوری کی وجہ سے آپ نے قران ہی کیا، ورنہ تمتع کرتے، اس لیے تمتع افضل ہے۔
۲؎: یعنی: عمرہ کے بعد احرام کھول دیتا، پھر ۸ ذی الحجہ کو حج کے لیے دوبارہ احرام باندھنا، جیسا کہ حج تمتع میں کیا جاتا ہے، مذکورہ مجبوری کی وجہ سے آپ نے قران ہی کیا، ورنہ تمتع کرتے، اس لیے تمتع افضل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (1006)، الحج الكبير
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج 32 (1558)، صحیح مسلم/الحج 34 (1250)، (تحفة الأشراف: 1585)، مسند احمد (3/185) (صحیح)