جامع الترمذي حدیث نمبر: 942
Jami at-Tirmidhi 942
کتاب #10: کتاب: حج کے احکام و مناسک
98: باب مِنْهُ
باب: حج میں شرط لگانے سے متعلق ایک اور باب۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يُنْكِرُ الِاشْتِرَاطَ فِي الْحَجِّ، وَيَقُولُ: " أَلَيْسَ حَسْبُكُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ حج میں شرط لگانے سے انکار کرتے تھے اور کہتے تھے : کیا تمہارے لیے تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کافی نہیں ہے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 942]
💡 وضاحت:
۱؎: دراصل ابن عمر رضی الله عنہما نے یہ بات ابن عباس رضی الله عنہما کی تردید میں کہی تھی جو شرط لگانے کا فتوی دیتے تھے، ان کو ضباعہ رضی الله عنہا والی حدیث نہیں پہنچی تھی ورنہ ایسی بات نہ کہتے، اور آپ کا اشارہ صلح حدیبیہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرہ سے روک دیئے جانے کی طرف تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المحصر 2 (1810)، سنن النسائی/الحج 61 (2770) (تحفة الأشراف: 6937)، مسند احمد (2/33) (صحیح)