جامع الترمذي حدیث نمبر: 936
Jami at-Tirmidhi 936
کتاب #10: کتاب: حج کے احکام و مناسک
93: باب مَا جَاءَ فِي عُمْرَةِ رَجَبٍ
باب: رجب کے عمرے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ فِي أَيِّ شَهْرٍ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: " فِي رَجَبٍ "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: " مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَهُوَ مَعَهُ تَعْنِي ابْنَ عُمَرَ، وَمَا اعْتَمَرَ فِي شَهْرِ رَجَبٍ قَطُّ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، سَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ.
عروہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی الله عنہما سے پوچھا گیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس مہینے میں عمرہ کیا تھا ؟ تو انہوں نے کہا : رجب میں ، اس پر عائشہ رضی الله عنہا نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی عمرہ کیا ، اس میں وہ یعنی ابن عمر آپ کے ساتھ تھے ، آپ نے رجب کے مہینے میں کبھی بھی عمرہ نہیں کیا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ جبیب بن ابی ثابت نے عروہ بن زبیر سے نہیں سنا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 936]
💡 وضاحت:
۱؎: مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ابن عمر عائشہ رضی الله عنہا کی یہ بات سن کر خاموش رہے، کچھ نہیں بولے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ ان پر مشتبہ تھا، یا تو وہ بھول گئے تھے، یا انہیں شک ہو گیا تھا، اسی وجہ سے ام المؤمنین کی بات کا انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، اس سلسلہ میں صحیح بات ام المؤمنین کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2997 و 2998)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المناسک 37 (2998)، (تحفة الأشراف: 17373)، وراجع ما عند صحیح البخاری/العمرة 3 (1776)، صحیح مسلم/الحج 35 (1255، 129) (صحیح)