جامع الترمذي حدیث نمبر: 933
Jami at-Tirmidhi 933
کتاب #10: کتاب: حج کے احکام و مناسک
90: باب مَا ذُكِرَ فِي فَضْلِ الْعُمْرَةِ
باب: عمرہ کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ تُكَفِّرُ مَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک عمرے کے بعد دوسرا عمرہ درمیان کے تمام گناہ مٹا دیتا ہے ۱؎ اور حج مقبول ۲؎ کا بدلہ جنت ہی ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 933]
💡 وضاحت:
۱؎: مراد صغائر (چھوٹے گناہ) ہیں نہ کہ کبائر (بڑے گناہ) کیونکہ کبائر بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے۔
۲؎: حج مقبول وہ حج ہے جس میں کسی گناہ کی ملاوٹ نہ ہو۔
۲؎: حج مقبول وہ حج ہے جس میں کسی گناہ کی ملاوٹ نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2888)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحج 79 (1349)، (تحفة الأشراف: 12556)، مسند احمد (2/246، 461) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/العمرة (1773)، صحیح مسلم/الحج (المصدرالمذکور) سنن النسائی/الحج 3 (2623)، و5 (2630)، سنن ابن ماجہ/المناسک 3 (2888)، موطا امام مالک/الحج 21 (65)، مسند احمد (2/262)، سنن الدارمی/المناسک 7 (1802)، من غیر ہذا الطریق۔