📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: حج کے احکام و مناسک (كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: سر کے بال مونڈوانے یا کتروانے کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 913 Jami at-Tirmidhi 913
کتاب #10: کتاب: حج کے احکام و مناسک
74: باب مَا جَاءَ فِي الْحَلْقِ وَالتَّقْصِيرِ
باب: سر کے بال مونڈوانے یا کتروانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَلَقَ طَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ " قَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ " ثُمَّ قَالَ: " وَالْمُقَصِّرِينَ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ أُمِّ الْحُصَيْنِ، وَمَارِبَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي مَرْيَمَ، وَحُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ لِلرَّجُلِ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ، وَإِنْ قَصَّرَ يَرَوْنَ أَنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُ عَنْهُ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈوایا ، صحابہ کی ایک جماعت نے بھی سر مونڈوایا اور بعض لوگوں نے بال کتروائے ۔ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار یا دو بار فرمایا : ” اللہ سر مونڈانے والوں پر رحم فرمائے “ ، پھر فرمایا : ” کتروانے والوں پر بھی “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عباس ، ابن ام الحصین ، مارب ، ابو سعید خدری ، ابومریم ، حبشی بن جنادہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، اور وہ آدمی کے لیے سر منڈانے کو پسند کرتے ہیں اور اگر کوئی صرف کتروا لے تو وہ اسے بھی اس کی طرف سے کافی سمجھتے ہیں ۔ یہی سفیان ثوری ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول بھی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 913]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حلق (منڈوانا) تقصیر (کٹوانے) کے مقابلہ میں افضل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3044)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 127 (تعلیقا عقب حدیث 1727)، صحیح مسلم/الحج 55 (1301) (تحفة الأشراف: 8269) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الحج 127 (1727)، صحیح مسلم/الحج (المصدر المذکور)، سنن ابن ماجہ/المناسک 71 (3043)، موطا امام مالک/الحج 60 (184)، مسند احمد (2/34، 138، 151)، سنن الدارمی/المناسک 64 (1947) من غیر ہذا الطریق۔
جامع الترمذي • حدیث #913
911 912 913 914 915
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ