جامع الترمذي حدیث نمبر: 9
Jami at-Tirmidhi 9
کتاب #1: کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
7: بَابُ مَا جَاءَ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
باب: قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب یا پاخانہ کرنے کی رخصت۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِبَوْلٍ، فَرَأَيْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ بِعَامٍ يَسْتَقْبِلُهَا". وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي قَتَادَةَ , وَعَائِشَةَ , وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ. قال أبو عيسى: حَدِيثُ جَابِرٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ ہم پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ کریں ، پھر میں نے وفات سے ایک سال پہلے آپ کو قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس باب میں جابر رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابوقتادہ ، عائشہ ، اور عمار بن یاسر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 9]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (325)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الطہارة (13) سنن ابن ماجہ/الطہارة 18 (325) (تحفة الأشراف: 2574) (صحیح) (سند میں محمد بن اسحاق صدوق ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حدیث صحیح ہے)