جامع الترمذي حدیث نمبر: 896
Jami at-Tirmidhi 896
کتاب #10: کتاب: حج کے احکام و مناسک
60: باب مَا جَاءَ أَنَّ الإِفَاضَةَ مِنْ جَمْعٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ
باب: سورج نکلنے سے پہلے مزدلفہ سے لوٹنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق قَال: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ يُحَدِّثُ، يَقُولُ: كُنَّا وُقُوفًا بِجَمْعٍ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: " إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَكَانُوا يَقُولُونَ أَشْرِقْ ثَبِيرُ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ، فَأَفَاضَ عُمَرُ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ مزدلفہ میں ٹھہرے ہوئے تھے ، عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا : مشرکین جب تک کہ سورج نکل نہیں آتا نہیں لوٹتے تھے اور کہتے تھے : ثبیر ! تو روشن ہو جا ( تب ہم لوٹیں گے ) ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی ، چنانچہ عمر رضی الله عنہ سورج نکلنے سے پہلے لوٹے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 896]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3022)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج 100 (1684)، ومناقب الأنصار 26 (3838)، سنن ابی داود/ الحج 65 (1938)، سنن النسائی/الحج 213 (3050)، سنن ابن ماجہ/المناسک 61 (3022)، (تحفة الأشراف: 10616)، مسند احمد (1/14، 29، 39، 42، 50)، سنن الدارمی/المناسک 55 (1932) (صحیح)