📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: حج کے احکام و مناسک (كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: جس نے امام کو مزدلفہ میں پا لیا، اس نے حج کو پا لیا۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 891 Jami at-Tirmidhi 891
کتاب #10: کتاب: حج کے احکام و مناسک
57: باب مَا جَاءَ فِيمَنْ أَدْرَكَ الإِمَامَ بِجَمْعٍ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ
باب: جس نے امام کو مزدلفہ میں پا لیا، اس نے حج کو پا لیا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ وَزَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لاَمٍ الطَّائِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، حِينَ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ، فَقُلْتُ: يَارَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي جِئْتُ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّئٍ أَكْلَلْتُ رَاحِلَتِي وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي وَاللهِ! مَا تَرَكْتُ مِنْ حَبْلٍ إِلاَّ وَقَفْتُ عَلَيْهِ. فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ شَهِدَ صَلاَتَنَا هَذِهِ وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّى نَدْفَعَ، وَقَدْ وَقَفَ بِعَرَفَةَ قَبْلَ ذَلِكَ لَيْلاً أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ أَتَمَّ حَجَّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. قَالَ: قَوْلُهُ تَفَثَهُ يَعْنِي نُسُكَهُ. قَوْلُهُ مَا تَرَكْتُ مِنْ حَبْلٍ إِلاَّ وَقَفْتُ عَلَيْهِ. إِذَا كَانَ مِنْ رَمْلٍ يُقَالُ لَهُ حَبْلٌ. وَإِذَا كَانَ مِنْ حِجَارَةٍ يُقَالُ لَهُ جَبَلٌ.
عروہ بن مضرس بن اوس بن حارثہ بن لام الطائی رضی الله عنہ کہتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مزدلفہ آیا ، جس وقت آپ نماز کے لیے نکلے تو میں نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں قبیلہ طی کے دونوں پہاڑوں سے ہوتا ہوا آیا ہوں ، میں نے اپنی سواری کو اور خود اپنے کو خوب تھکا دیا ہے ، اللہ کی قسم ! میں نے کوئی پہاڑ نہیں چھوڑا جہاں میں نے ( یہ سوچ کر کہ عرفات کا ٹیلہ ہے ) وقوف نہ کیا ہو تو کیا میرا حج ہو گیا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو بھی ہماری اس نماز میں حاضر رہا اور اس نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہم یہاں سے روانہ ہوں اور وہ اس سے پہلے دن یا رات میں عرفہ میں وقوف کر چکا ہو ۱؎ تو اس نے اپنا حج پورا کر لیا ، اور اپنا میل کچیل ختم کر لیا “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱ - یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- «تَفَثَهُ» کے معنی «نسكه» کے ہیں یعنی مناسک حج کے ہیں ۔ اور اس کے قول : «ما تركت من حبل إلا وقفت عليه» ” کوئی ٹیلہ ایسا نہ تھا جہاں میں نے وقوف نہ کیا ہو “ کے سلسلے میں یہ ہے کہ جب ریت کا ٹیلہ ہو تو اسے حبل اور جب پتھر کا ہو تو اسے جبل کہتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 891]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ عرفات میں ٹھہرنا ضروری ہے اور اس کا وقت نو ذی الحجہ کو سورج ڈھلنے سے لے کر دسویں تاریخ کے طلوع فجر تک ہے ان دونوں وقتوں کے بیچ اگر تھوڑی دیر کے لیے بھی عرفات میں وقوف مل جائے تو اس کا حج ادا ہو جائے گا۔
۲؎: یعنی حالت احرام میں پراگندہ ہو کر رہنے کی مدت اس نے پوری کر لی اب وہ اپنا سارا میل کچیل جو چھوڑ رکھا تھا دور کر سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3016)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الحج 69 (1950)، سنن النسائی/الحج 211 (3043)، سنن ابن ماجہ/المناسک 57 (3016)، (تحفة الأشراف: 9900)، مسند احمد (4/261، 262)، سنن الدارمی/المناسک 54 (1930) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #891
889 890 891 892 893

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#889 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْد...
عبدالرحمٰن بن یعمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نجد کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ...
#890 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَ...
۸۹۰- ابن ابی عمر نے بسند سفیان بن عیینہ عن سفیان الثوری عن بکیر بن عطاء عن عبدالرحمٰن بن یعمر عن الن...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ