جامع الترمذي حدیث نمبر: 887
Jami at-Tirmidhi 887
کتاب #10: کتاب: حج کے احکام و مناسک
56: باب مَا جَاءَ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمُزْدَلِفَةِ
باب: مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کر کے پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " صَلَّى بِجَمْعٍ، فَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ بِإِقَامَةٍ "، وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ هَذَا فِي هَذَا الْمَكَانِ.
عبداللہ بن مالک کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی الله عنہما نے مزدلفہ میں نماز پڑھی اور ایک اقامت سے مغرب اور عشاء کی دونوں نمازیں ایک ساتھ ملا کر پڑھیں اور کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جگہ پر ایسے ہی کرتے دیکھا ہے ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 887]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کے برخلاف جابر رضی الله عنہ کی ایک روایت صحیح مسلم میں ہے کہ آپ نے ایک اذان اور دو تکبیروں سے دونوں نمازیں ادا کیں اور یہی راجح ہے، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (1682 - 1690)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(887) إسناده ضعيف / د 1929
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الحج 65 (1929) (تحفة الأشراف: 7285) (صحیح) (ہر صلاة کے لیے الگ الگ اقامت کے ذکر کے ساتھ یہ حدیث صحیح ہے/ دیکھئے اگلی روایت)