جامع الترمذي حدیث نمبر: 883
Jami at-Tirmidhi 883
کتاب #10: کتاب: حج کے احکام و مناسک
53: باب مَا جَاءَ فِي الْوُقُوفِ بِعَرَفَاتٍ وَالدُّعَاءِ بِهَا
باب: عرفات میں ٹھہرنے اور دعا کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَيْبَانَ، قَالَ: أَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ وَنَحْنُ وُقُوفٌ بِالْمَوْقِفِ مَكَانًا يُبَاعِدُهُ عَمْرٌو، فَقَالَ: إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ، يَقُولُ: " كُونُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ، فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ إِبْرَاهِيمَ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَعَائِشَةَ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَالشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيِّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَابْنُ مِرْبَعٍ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَإِنَّمَا يُعْرَفُ لَهُ هَذَا الْحَدِيثُ الْوَاحِدُ.
یزید بن شیبان کہتے ہیں : ہمارے پاس یزید بن مربع انصاری رضی الله عنہ آئے ، ہم لوگ موقف ( عرفات ) میں ایسی جگہ ٹھہرے ہوئے تھے جسے عمرو بن عبداللہ امام سے دور سمجھتے تھے ۱؎ تو یزید بن مربع نے کہا : میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا قاصد ہوں ، تم لوگ مشاعر ۲؎ پر ٹھہرو کیونکہ تم ابراہیم کے وارث ہو ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یزید بن مربع انصاری کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اسے ہم صرف ابن عیینہ کے طریق سے جانتے ہیں ، اور ابن عیینہ عمرو بن دینار سے روایت کرتے ہیں ، ¤ ۳- ابن مربع کا نام یزید بن مربع انصاری ہے ، ان کی صرف یہی ایک حدیث جانی جاتی ہے ، ¤ ۴- اس باب میں علی ، عائشہ ، جبیر بن مطعم ، شرید بن سوید ثقفی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 883]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ جملہ مدرج ہے عمرو بن دینار کا تشریحی قول ہے۔
۲؎: مشاعر سے مراد مواضع نسک اور مواقف قدیمہ ہیں، یعنی ان مقامات پر تم بھی وقوف کرو کیونکہ ان پر وقوف تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام ہی کے دور سے بطور روایت چلا آ رہا ہے۔
۲؎: مشاعر سے مراد مواضع نسک اور مواقف قدیمہ ہیں، یعنی ان مقامات پر تم بھی وقوف کرو کیونکہ ان پر وقوف تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام ہی کے دور سے بطور روایت چلا آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3011)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الحج 63 (1919)، سنن النسائی/الحج 202 (3017)، سنن ابن ماجہ/المناسک 55 (3011)، (تحفة الأشراف: 15526)، مسند احمد (4/137) (صحیح)