جامع الترمذي حدیث نمبر: 873
Jami at-Tirmidhi 873
کتاب #10: کتاب: حج کے احکام و مناسک
45: باب مَا جَاءَ فِي دُخُولِ الْكَعْبَةِ
باب: کعبہ کے اندر داخل ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِي وَهُوَ قَرِيرُ الْعَيْنِ طَيِّبُ النَّفْسِ، فَرَجَعَ إِلَيَّ وَهُوَ حَزِينٌ، فَقُلْتُ لَهُ: فَقَالَ: " إِنِّي دَخَلْتُ الْكَعْبَةَ وَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ فَعَلْتُ إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ أَتْعَبْتُ أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے نکل کر گئے ، آپ کی آنکھیں ٹھنڈی تھیں اور طبیعت خوش ، پھر میرے پاس لوٹ کر آئے ، تو غمگین اور افسردہ تھے ، میں نے آپ سے ( وجہ ) پوچھی ، تو آپ نے فرمایا : ” میں کعبہ کے اندر گیا ۔ اور میری خواہش ہوئی کہ کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا ۔ میں ڈر رہا ہوں کہ اپنے بعد میں نے اپنی امت کو زحمت میں ڈال دیا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 873]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (3064) // ضعيف سنن ابن ماجة (656)، ضعيف الجامع الصغير (2085)، ضعيف أبي داود (440 / 2029) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(873) إسناده ضعيف / د 2029، جه 3064
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الحج 95 (2029)، سنن ابن ماجہ/المناسک (79) (3064) (تحفة الأشراف: 16230) (ضعیف) (اس کے راوی ”اسماعیل بن عبدالملک“ کثیرالوہم ہیں)