جامع الترمذي حدیث نمبر: 870
Jami at-Tirmidhi 870
کتاب #10: کتاب: حج کے احکام و مناسک
43: باب مَا جَاءَ مَا يُقْرَأُ فِي رَكْعَتَىِ الطَّوَافِ
باب: طواف کی دو رکعت میں کون سی سورت پڑھے؟
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ " يَسْتَحِبُّ أَنْ يَقْرَأَ فِي رَكْعَتَيِ الطَّوَافِ بِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عِمْرَانَ، وَحَدِيثُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ فِي هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ.
محمد ( محمد بن علی الباقر ) سے روایت ہے کہ وہ طواف کی دونوں رکعتوں میں : «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھنے کو مستحب سمجھتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- سفیان کی جعفر بن محمد عن أبیہ کی روایت عبدالعزیز بن عمران کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۲- اور ( سفیان کی روایت کردہ ) جعفر بن محمد کی حدیث جسے وہ اپنے والد ( کے عمل سے ) سے روایت کرتے ہیں ( عبدالعزیز کی روایت کردہ ) جعفر بن محمد کی اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جسے وہ اپنے والد سے اور وہ جابر سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۱؎ ، ¤ ۳- عبدالعزیز بن عمران حدیث میں ضعیف ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 870]
💡 وضاحت:
۱؎: امام ترمذی کے اس قول میں نظر ہے کیونکہ عبدالعزیز بن عمران اس حدیث کو «عن جعفر بن محمد عن أبیہ عن جابر» کے طریق سے روایت کرنے میں منفرد نہیں ہیں، امام مسلم نے اپنی صحیح میں (برقم: ۱۲۱۸) «حاتم بن اسماعیل المدنی عن جعفر بن محمد عن أبیہ عن جابر» کے طریق سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد مقطوعا
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 19324) (صحیح الإسناد)