📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي - حدیث نمبر 86

Sunan / Jami at-Tirmidhi Hadith 86 (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
کتاب #1 📁 کتاب: طہارت کے احکام و مسائل (كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) ← 🏷️ باب: بوسہ لینے سے وضو کے نہ ٹوٹنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 86 Jami at-Tirmidhi 86
کتاب #1: کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
63: بَابُ مَا جَاءَ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِنَ الْقُبْلَةِ
🏷️ باب: بوسہ لینے سے وضو کے نہ ٹوٹنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَهَنَّادٌ , وَأَبُو كُرَيْبٍ , وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , وأَبو عَمَّارٍ الْحسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ , قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِهِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ , قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هِيَ إِلَّا أَنْتِ , قَالَ: فَضَحِكَتْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، قَالُوا: لَيْسَ فِي الْقُبْلَةِ وُضُوءٌ , وقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَالْأَوْزَاعِيُّ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: فِي الْقُبْلَةِ وُضُوءٌ , وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، وَإِنَّمَا تَرَكَ أَصْحَابُنَا حَدِيثَ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا، لِأَنَّهُ لَا يَصِحُّ عِنْدَهُمْ لِحَالِ الْإِسْنَادِ , قَالَ: وسَمِعْت أَبَا بَكْرٍ الْعَطَّارَ الْبَصْرِيَّ يَذْكُرُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: ضَعَّفَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ هَذَا الْحَدِيثَ جِدًّا، وَقَالَ: هُوَ شِبْهُ لَا شَيْءَ , قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل يُضَعِّفُ هَذَا الْحَدِيثَ , وقَالَ: حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَهَا وَلَمْ يَتَوَضَّأْ , وَهَذَا لَا يَصِحُّ أَيْضًا، وَلَا نَعْرِفُ لِإِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ سَمَاعًا مِنْ عَائِشَةَ، وَلَيْسَ يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَابِ شَيْءٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنی بیویوں میں سے کسی ایک کا بوسہ لیا ، پھر آپ نماز کے لیے نکلے اور وضو نہیں کیا ، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ( اپنی خالہ ام المؤمنین عائشہ سے ) کہا : وہ آپ ہی رہی ہوں گی ؟ تو وہ ہنس پڑیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم سے اسی طرح مروی ہے اور یہی قول سفیان ثوری ، اور اہل کوفہ کا ہے کہ بوسہ لینے سے وضو ( واجب ) نہیں ہے ، مالک بن انس ، اوزاعی ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ بوسہ لینے سے وضو ( واجب ) ہے ، یہی قول صحابہ اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا ہے ، ¤ ۲- ہمارے اصحاب نے عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث پر جو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے محض اس وجہ سے عمل نہیں کیا کہ یہ سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ۲؎ ، ¤ ۳- یحییٰ بن قطان نے اس حدیث کی بہت زیادہ تضعیف کی ہے اور کہا ہے کہ یہ لاشیٔ کے مشابہ ہے ۳؎ ، ¤ ۴- نیز میں نے محمد بن اسماعیل ( بخاری ) کو بھی اس حدیث کی تضعیف کرتے سنا ، انہوں نے کہا کہ حبیب بن ثابت کا سماع عروۃ سے نہیں ہے ، ¤ ۵- نیز ابراہیم تیمی نے بھی عائشہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ان کا بوسہ لیا اور وضو نہیں کیا ۔ لیکن یہ روایت بھی صحیح نہیں کیونکہ عائشہ سے ابراہیم تیمی کے سماع کا ہمیں علم نہیں ۔ اس باب میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے کوئی بھی حدیث صحیح نہیں ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 86]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آپ نے سابق وضو ہی پر نماز پڑھی، بوسہ لینے سے نیا وضو نہیں کیا، اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ عورت کے چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا اور یہی قول راجح ہے۔
۲؎: لیکن امام شوکانی نے نیل الأوطار میں اور علامہ البانی نے صحیح أبی داود (رقم ۱۷۱- ۱۷۲) میں متابعات اور شواہد کی بنیاد پر اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، نیز دیگر بہت سے ائمہ نے بھی اس حدیث کی تصحیح کی ہے (تفصیل کے لیے دیکھئیے مذکورہ حوالے)۔
۳؎: ” لاشئی کے مشابہ“ ہے یعنی ضعیف ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (502)
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف / د 179، جه 502
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الطہارة 69 (179، 180)، سنن النسائی/الطہارة 121 (170)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 69 (502)، (تحفة الأشراف: 17371)، مسند احمد (6/207) (صحیح) (سند میں حبیب بن ابی ثابت اور عروہ کے درمیان انقطاع ہے جیسا کہ مؤلف نے صراحت کی ہے، لیکن متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے)
جامع الترمذي • حدیث #86
84 85 86 87 88

📖 اسی کتاب کی دیگر احادیث (Related Hadiths)

#1 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ . ح وحَدّ...
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز بغیر وضو کے قبول نہیں کی ج...
#2 حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ ، حَدَّث...
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا اور اپنا ...
#3 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَهَنَّادٌ , وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ س...
´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز کی کنجی وضو ہے ، اور اس کا تحریمہ صرف «ال...
#4 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجَوَيْهِ الْبَغْدَادِيُّ ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ , قَالَ: حَدّ...
´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز جنت کی کنجی ہے ، اور نماز ک...
#5 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , وَهَنَّادٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَز...
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے پاخانہ میں داخل ہوتے تو یہ دعا پ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ