جامع الترمذي حدیث نمبر: 853
Jami at-Tirmidhi 853
کتاب #10: کتاب: حج کے احکام و مناسک
30: باب مَا جَاءَ فِي دُخُولِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ مِنْ أَعْلاَهَا وَخُرُوجِهِ مِنْ أَسْفَلِهَا
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے مکہ میں بلندی کی طرف۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " لَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ، دَخَلَ مِنْ أَعْلَاهَا وَخَرَجَ مِنْ أَسْفَلِهَا ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آتے تو بلندی کی طرف سے داخل ہوتے اور نشیب کی طرف سے نکلتے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 853]
💡 وضاحت:
۱؎: بلندی سے مراد ثنیہ کداء ہے جو مکہ مکرمہ کی مقبرۃ المعلیٰ کی طرف ہے، اور بلند ہے اور نشیب سے مراد ثنیۃ کدی ہے جو باب العمرۃ اور اب ملک فہد کی طرف نشیب میں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (1633)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج 41 (1576)، صحیح مسلم/الحج 37 (1257)، سنن ابی داود/ الحج (1869) (تحفة الأشراف: 16923) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/المغازي 49 (4290)، سنن ابی داود/ الحج 45 (1868) من غیر ہذا الطریق۔