جامع الترمذي حدیث نمبر: 837
Jami at-Tirmidhi 837
کتاب #10: کتاب: حج کے احکام و مناسک
21: باب مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ
باب: محرم کون کون سے جانور مار سکتا ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسُ فَوَاسِقَ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ، الْفَأْرَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْغُرَابُ وَالْحُدَيَّا وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانچ موذی جانور ہیں جو حرم میں یا حالت احرام میں بھی مارے جا سکتے ہیں : چوہیا ، بچھو ، کوا ، چیل ، کاٹ کھانے والا کتا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن مسعود ، ابن عمر ، ابوہریرہ ، ابوسعید اور ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 837]
💡 وضاحت:
۱؎ کاٹ کھانے والے کتے سے مراد وہ تمام درندے ہیں جو لوگوں پر حملہ کر کے انہیں زخمی کر دیتے ہوں مثلاً شیر چیتا بھیڑیا وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3087)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/بدء الخلق 16 (3314)، صحیح مسلم/الحج 9 (1198)، سنن النسائی/الحج 118 (2893)، (تحفة الأشراف: 16629) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/جزاء الصید 7 (1829)، سنن النسائی/الحج 83 (2832)، و113 (2884)، و114 (2885)، و116 (2890)، و117 (2891)، سنن ابن ماجہ/الحج 91 (3087) مسند احمد (6/87، 97، 122، 203، 259، 261) من غیر ہذا الطریق۔