📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي - حدیث نمبر 809

Sunan / Jami at-Tirmidhi Hadith 809 (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
کتاب #10 📁 کتاب: حج کے احکام و مناسک (كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) ← 🏷️ باب: مکہ کی حرمت کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 809 Jami at-Tirmidhi 809
کتاب #10: کتاب: حج کے احکام و مناسک
1: باب مَا جَاءَ فِي حُرْمَةِ مَكَّة
🏷️ باب: مکہ کی حرمت کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ أَنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ فِيهَا دَمًا أَوْ يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، فَقُولُوا لَهُ: إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكَ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهِ سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ وَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ". فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ: مَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو؟ قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ مِنْكَ بِذَلِكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَيُرْوَى وَلَا فَارًّا بِخِزْيَةٍ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي شُرَيْحٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيُّ اسْمُهُ خُوَيْلِدُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ الْعَدَوِيُّ وَهُوَ الْكَعْبِيُّ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ يَعْنِي الْجِنَايَةَ، يَقُولُ: مَنْ جَنَى جِنَايَةً أَوْ أَصَابَ دَمًا ثُمَّ لَجَأَ إِلَى الْحَرَمِ، فَإِنَّهُ يُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ.
ابوشریح عدوی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرو بن سعید ۲؎ سے - جب وہ مکہ کی طرف ( عبداللہ بن زبیر سے قتال کے لیے ) لشکر روانہ کر رہے تھے کہا : اے امیر ! مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ سے ایک ایسی بات بیان کروں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن فرمایا ، میرے کانوں نے اسے سنا ، میرے دل نے اسے یاد رکھا اور میری آنکھوں نے آپ کو دیکھا ، جب آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا : ” مکہ ( میں جنگ و جدال کرنا ) اللہ نے حرام کیا ہے ۔ لوگوں نے حرام نہیں کیا ہے ، لہٰذا کسی شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو ، یہ جائز نہیں کہ وہ اس میں خون بہائے ، یا اس کا کوئی درخت کاٹے ۔ اگر کوئی اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتال کو دلیل بنا کر ( قتال کا ) جواز نکالے تو اس سے کہو : اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اجازت دی تھی ، تمہیں نہیں دی ہے ۔ تو مجھے بھی دن کے کچھ وقت کے لیے آج اجازت تھی ، آج اس کی حرمت ویسے ہی لوٹ آئی ہے جیسے کل تھی ۔ جو لوگ موجود ہیں وہ یہ بات ان لوگوں کو پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں “ ، ابوشریح سے پوچھا گیا : اس پر عمرو بن سعید نے آپ سے کیا کہا ؟ کہا : اس نے مجھ سے کہا : ابوشریح ! میں یہ بات آپ سے زیادہ اچھی طرح جانتا ہوں ، حرم مکہ کسی نافرمان ( یعنی باغی ) کو پناہ نہیں دیتا اور نہ کسی کا خون کر کے بھاگنے والے کو اور نہ چوری کر کے بھاگنے والے کو ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوشریح رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- ابوشریح خزاعی کا نام خویلد بن عمرو ہے ۔ اور یہی عدوی اور کعبی یہی ہیں ، ¤ ۳- اس باب میں ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۴- ولا فارا بخربة کی بجائے ولا فارا بخزية زائے منقوطہٰ اور یاء کے ساتھ بھی مروی ہے ، ۵- اور ولا فارا بخربة میں خربہ کے معنی گناہ اور جرم کے ہیں یعنی جس نے کوئی جرم کیا یا خون کیا پھر حرم میں پناہ لی تو اس پر حد جاری کی جائے گی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 809]
💡 وضاحت:
۱؎: حج اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے اس کی فرضیت ۵ھ یا ۶ھ میں ہوئی اور بعض نے ۹ھ یا ۱۰ھ کہا ہے، زادالمعاد میں ابن القیم کا رجحان اسی طرف ہے۔
۲؎: عمرو بن سعید: یزید کی طرف سے مدینہ کا گونر تھا اور یزید کی حکومت کا عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کی خلافت کے خلاف لشکر کشی کرنا اور وہ بھی مکہ مکرمہ پر قطعا غلط تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العلم 37 (104)، وجزاء الصید 8 (1832)، والمغازي 51 (4295)، صحیح مسلم/الحج 82 (1354)، سنن النسائی/الحج 111 (2879)، (تحفة الأشراف: 12057)، مسند احمد (4/31)، ویأتي عند المؤلف في الدیات (برقم: 1406)، و مسند احمد (6/385) من غیر ہذا الطریق (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #809
807 808 809 810 811

📖 اسی کتاب کی دیگر احادیث (Related Hadiths)

#810 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، ...
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حج اور عمرہ ایک کے بعد دوسرے کو ا...
#811 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي ح...
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے حج کیا اور اس نے کوئی فحش اور بیہیو...
#812 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ...
´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سفر کے خرچ اور سواری کا مالک ہو جو اسے بیت الل...
#813 حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ مُ...
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر پوچھا : اللہ کے رسول ! ک...
#814 حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ...
´علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جب یہ حکم نازل ہوا کہ ” اللہ کے لیے لوگوں پر خانہ کعبہ کا حج فرض ہے جو اس تک ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ