جامع الترمذي حدیث نمبر: 785
Jami at-Tirmidhi 785
کتاب #9: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
67: باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصَّائِمِ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ
باب: روزہ دار کی فضیلت کا بیان جب اس کے پاس کھایا جائے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ، قَال: سَمِعْتُ مَوْلَاةً لَنَا يُقَالُ لَهَا لَيْلَى تُحَدِّثُ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عُمَارَةَ بِنْتِ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَدَّمَتْ إِلَيْهِ طَعَامًا، فَقَالَ: " كُلِي "، فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الصَّائِمَ تُصَلِّي عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ حَتَّى يَفْرُغُوا ". وَرُبَّمَا قَالَ: " حَتَّى يَشْبَعُوا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ.
ام عمارہ بنت کعب انصاریہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے ، انہوں نے آپ کو کھانا پیش کیا ، تو آپ نے فرمایا : ” تم بھی کھاؤ “ ، انہوں نے کہا : میں روزہ سے ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزہ دار کے لیے فرشتے استغفار کرتے رہتے ہیں ، جب اس کے پاس کھایا جاتا ہے جب تک کہ کھانے والے فارغ نہ ہو جائیں “ ۔ بعض روایتوں میں ہے ” جب تک کہ وہ آسودہ نہ ہو جائیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اور یہ شریک کی ( اوپر والی ) حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 785]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (1748) // لفظ آخر ضعيف الجامع (1483) //
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (ضعیف) (سند میں لیلیٰ مجہول راوی ہے)