جامع الترمذي حدیث نمبر: 781
Jami at-Tirmidhi 781
کتاب #9: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
64: باب مَا جَاءَ فِي إِجَابَةِ الصَّائِمِ الدَّعْوَةَ
باب: روزہ دار دعوت قبول کرے اس کا بیان۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَكِلَا الْحَدِيثَيْنِ فِي هَذَا الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے اور وہ روزہ سے ہو تو چاہیئے کہ وہ کہے میں روزہ سے ہوں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اس باب میں ابوہریرہ سے مروی دونوں حدیثیں حسن صحیح ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 781]
💡 وضاحت:
۱؎: ”میں روزہ سے ہوں“ کہنے کا حکم دعوت قبول نہ کرنے کی معذرت کے طور پر ہے، اگرچہ نوافل کا چھپانا بہتر ہے، لیکن یہاں اس کے ظاہر کرنے کا حکم اس لیے ہے کہ تاکہ داعی کے دل میں مدعو کے خلاف کوئی غلط فہمی اور کدورت راہ نہ پائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1750)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 13671) (صحیح)