📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: طہارت کے احکام و مسائل (كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: نیند سے وضو کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 78 Jami at-Tirmidhi 78
کتاب #1: کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
57: بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ
باب: نیند سے وضو کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُونَ، ثُمَّ يَقُومُونَ فَيُصَلُّونَ وَلَا يَتَوَضَّئُونَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وسَمِعْت صَالِحَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ عَمَّنْ نَامَ قَاعِدًا مُعْتَمِدًا، فَقَالَ: لَا وُضُوءَ عَلَيْهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَبَا الْعَالِيَةِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَاخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِي الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ، فَرَأَى أَكْثَرُهُمْ أَنْ لَا يَجِبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ إِذَا نَامَ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا، حَتَّى يَنَامَ مُضْطَجِعًا، وَبِهِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَأَحْمَدُ، قَالَ: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا نَامَ حَتَّى غُلِبَ عَلَى عَقْلِهِ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ، وَبِهِ يَقُولُ إِسْحَاق، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: مَنْ نَامَ قَاعِدًا فَرَأَى رُؤْيَا أَوْ زَالَتْ مَقْعَدَتُهُ لِوَسَنِ النَّوْمِ، فَعَلَيْهِ الْوُضُوءُ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی الله عنہم ( بیٹھے بیٹھے ) سو جاتے ، پھر اٹھ کر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- میں نے صالح بن عبداللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عبداللہ ابن مبارک سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو بیٹھے بیٹھے سو جائے تو انہوں نے کہا کہ اس پر وضو نہیں ، ¤ ۳- ابن عباس والی حدیث کو سعید بن ابی عروبہ نے بسند «قتادہ عن ابن عباس» ( موقوفاً ) روایت کیا ہے اور اس میں ابولعالیہ کا ذکر نہیں کیا ہے ، ¤ ۴- نیند سے وضو کے سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے ، اکثر اہل علم کی رائے یہی ہے کہ کوئی کھڑے کھڑے سو جائے تو اس پر وضو نہیں جب تک کہ وہ لیٹ کر نہ سوئے ، یہی سفیان ثوری ، ابن مبارک اور احمد کہتے ہیں ، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ جب نیند اس قدر گہری ہو کہ عقل پر غالب آ جائے تو اس پر وضو واجب ہے اور یہی اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں ، شافعی کا کہنا ہے کہ جو شخص بیٹھے بیٹھے سوئے اور خواب دیکھنے لگ جائے ، یا نیند کے غلبہ سے اس کی سرین اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو اس پر وضو واجب ہے ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 78]
💡 وضاحت:
۱؎: ان تینوں میں راجح پہلا مذہب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (114)، صحيح أبي داود (194)، المشكاة (317)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحیض 33 (123/376)، سنن ابی داود/ الطہارة 80 (200)، (تحفة الأشراف: 1271)، مسند احمد (3/277 (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #78
76 77 78 79 80

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#77 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى كُوفِيٌّ، وَهَنَّادٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ ا...
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سجدے کی...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ