جامع الترمذي حدیث نمبر: 775
Jami at-Tirmidhi 775
کتاب #9: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ صَائِمٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ. هَكَذَا رَوَى وَهِيبٌ نَحْوَ رِوَايَةِ عَبْدِ الْوَارِثِ، وَرَوَى إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلًا وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا ، آپ محرم تھے اور روزے سے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث صحیح ہے ، ¤ ۲- اسی طرح وہیب نے بھی عبدالوارث کی طرح روایت کی ہے ، ¤ ۳- اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ نے ایوب سے اور ایوب نے عکرمہ سے مرسلاً روایت کی ہے اور ، عکرمہ نے اس میں ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 775]
قال الشيخ الألباني:
صحيح - بلفظ: ".... واحتجم وهو صائم " -، ابن ماجة (1682)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 32 (1938)، والطب 12 (5695)، سنن ابی داود/ الصیام 29 (2372)، (تحفة الأشراف: 5989) (صحیح) ”احتجم وھو صائم“ کے لفظ سے صحیح ہے جو بسند عبدالوارث صحیح بخاری میں موجود ہے، اور ترمذی کا یہ سیاق سنن ابی داود میں بسند یزید عن مقسم عن ابن عباس موجود ہے، جب کہ حکم اور حجاج نے مقسم سے روایت میں ”محرم“ کا لفظ نہیں ذکر کیا ہے، در اصل الگ الگ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے دونوں حالت میں حجامت کرائی، جس کا ذکر صحیح بخاری میں بسند وہیب عن ایوب، عن عکرمہ، عن ابن عباس ہے کہ أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احتجم وهو محرم، واحتجم وهو صائم: 1835، 1938) پتہ چلا کہ پچھنا لگوانے کا یہ کام حالت صوم واحرام میں ایک ساتھ نہیں ہوا ہے، بلکہ دو الگ الگ واقعہ ہے) وقد أخرجہ کل من: صحیح البخاری/جزاء الصید 11 (1835)، واطلب 15 (5700)، صحیح مسلم/الحج 11 (1202)، سنن ابی داود/ الحج 36 (1835، 1836)، سنن ابن ماجہ/الحج 87 (3081)، مسند احمد (1/215، 221، 222، 236، 248، 249، 260، 283، 286، 292، 306، 315، 333، 346، 351، 372، 374)، سنن الدارمی/المناسک 20 (1820)، من غیر ہذا الطریق۔