جامع الترمذي حدیث نمبر: 754
Jami at-Tirmidhi 754
کتاب #9: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
50: باب مَا جَاءَ عَاشُورَاءُ أَىُّ يَوْمٍ هُوَ
باب: عاشوراء کا دن کون سا ہے؟
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ، قَالَ: " انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي زَمْزَمَ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ يَوْمِ عَاشُورَاءَ أَيُّ يَوْمٍ هُوَ أَصُومُهُ، قَالَ: " إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ ثُمَّ أَصْبِحْ مِنَ التَّاسِعِ صَائِمًا "، قَالَ: فَقُلْتُ: أَهَكَذَا كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " نَعَمْ ".
حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ میں ابن عباس کے پاس پہنچا ، وہ زمزم پر اپنی چادر کا تکیہ لگائے ہوئے تھے ، میں نے پوچھا : مجھے یوم عاشوراء کے بارے میں بتائیے کہ وہ کون سا دن ہے جس میں میں روزہ رکھوں ؟ انہوں نے کہا : جب تم محرم کا چاند دیکھو تو دن گنو ، اور نویں تاریخ کو روزہ رکھ کر صبح کرو ۔ میں نے پوچھا : کیا اسی طرح سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے ؟ کہا : ہاں ( اسی طرح رکھتے تھے ) ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 754]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (2114)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصیام 20 (1133)، سنن ابی داود/ الصیام 65 (2446)، (التحفہ: 5412)، مسند احمد (1/247) (صحیح)