📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: روزوں کے احکام و مسائل (كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: میت کے چھوڑے ہوئے روزے کے کفارہ کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 718 Jami at-Tirmidhi 718
کتاب #9: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
23: باب مَا جَاءَ فِي الْكَفَّارَةِ فِي الصَّوْمِ
باب: میت کے چھوڑے ہوئے روزے کے کفارہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ شَهْرٍ فَلْيُطْعَمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالصَّحِيحُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفٌ قَوْلُهُ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْبَاب، فَقَالَ بَعْضُهُمْ، يُصَامُ عَنِ الْمَيِّتِ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، قَالَا: إِذَا كَانَ عَلَى الْمَيِّتِ نَذْرُ صِيَامٍ يَصُومُ عَنْهُ، وَإِذَا كَانَ عَلَيْهِ قَضَاءُ رَمَضَانَ أَطْعَمَ عَنْهُ، وقَالَ مَالِكٌ، وَسُفْيَانُ، وَالشَّافِعِيُّ: لَا يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ، قَالَ: وَأَشْعَثُ هُوَ ابْنُ سَوَّارٍ، وَمُحَمَّدٌ هُوَ عِنْدِي ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اس حالت میں مرے کہ اس پر ایک ماہ کا روزہ باقی ہو تو اس کی طرف سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کو ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں ، ¤ ۲- صحیح بات یہ ہے کہ یہ ابن عمر رضی الله عنہما سے موقوف ہے یعنی انہیں کا قول ہے ، ¤ ۳- اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ میت کی طرف سے روزے رکھے جائیں گے ۔ یہ قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے ۔ یہ دونوں کہتے ہیں : جب میت پر نذر والے روزے ہوں تو اس کی طرف سے روزہ رکھا جائے گا ، اور جب اس پر رمضان کی قضاء واجب ہو تو اس کی طرف سے مسکینوں اور فقیروں کو کھانا کھلایا جائے گا ، مالک ، سفیان اور شافعی کہتے ہیں کہ کوئی کسی کی طرف سے روزہ نہیں رکھے گا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 718]
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (1757) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (389)، المشكاة (2034 / التحقيق الثاني)، ضعيف الجامع الصغير (5853) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (718) إسناده ضعيف /جه 1757 ¤ أشعت بن سوار ومحمد بن أبى ليلي ضعيفان: (تقدما:194،649)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الصیام 50 (1757) (تحفة الأشراف: 8423) (ضعیف) (سند میں اشعث بن سوار کندی ضعیف ہیں، نیز اس حدیث کا موقوف ہونا ہی زیادہ صحیح ہے)
جامع الترمذي • حدیث #718
716 717 718 719 720
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ