جامع الترمذي حدیث نمبر: 698
Jami at-Tirmidhi 698
کتاب #9: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
12: باب مَا جَاءَ إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ وَأَدْبَرَ النَّهَارُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ
باب: جب رات آ جائے اور دن چلا جائے یعنی سورج ڈوب جائے تو صائم افطار کرے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ وَأَدْبَرَ النَّهَارُ وَغَابَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرْتَ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، وَأَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب رات آ جائے ، اور دن چلا جائے اور سورج ڈوب جائے تو تم نے افطار کر لیا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- عمر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن ابی اوفی اور ابو سعید خدری سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 698]
💡 وضاحت:
۱؎: ”تم نے افطار کر لیا“ کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ تمہارے روزہ کھولنے کا وقت ہو گیا، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم شرعاً روزہ کھولنے والے ہو گئے خواہ تم نے کچھ کھایا پیا نہ ہو کیونکہ سورج ڈوبتے ہی روزہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا اس میں روزہ کے وقت کا تعین کر دیا گیا ہے کہ وہ صبح صادق سے سورج ڈوبنے تک ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (2036)، الإرواء (916)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 43 (1954)، صحیح مسلم/الصیام 10 (1100)، سنن ابی داود/ الصیام 19 (2351)، 28، 35، (تحفة الأشراف: 10474)، مسند احمد (1/48)، سنن الدارمی/الصوم 11 (1742) (صحیح)