جامع الترمذي حدیث نمبر: 683
Jami at-Tirmidhi 683
کتاب #9: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
1: باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ شَهْرِ رَمَضَانَ
باب: ماہ رمضان کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، وَالْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ". هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ الَّذِي رَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِثْلَ رِوَايَةِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ: وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَوْلَهُ: إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ مُحَمَّدٌ: وَهَذَا أَصَحُّ عِنْدِي مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اور اس کی راتوں میں قیام کیا تو اس کے سابقہ گناہ ۱؎ بخش دئیے جائیں گے ۔ اور جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کیا تو اس کے بھی سابقہ گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ کی ( پچھلی ) حدیث ، جسے ابوبکر بن عیاش نے روایت کی ہے غریب ہے ، اسے ہم ابوبکر بن عیاش کی روایت کی طرح جسے انہوں نے بطریق : «الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة» روایت کی ہے ۔ ابوبکر ہی کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بسند «حسن بن ربیع عن أبی الأحوص عن الأعمش» مجاہد کا قول نقل کیا کہ جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے … پھر آگے انہوں نے پوری حدیث بیان کی ، ¤ ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : یہ حدیث میرے نزدیک ابوبکر بن عیاش کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 683]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مراد صغیرہ گناہ ہیں جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1326)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 15038 و15051) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الإیمان 27 (37)، و28 (38)، والصوم 6 (1901)، والتراویح 1 (2008، 2009)، صحیح مسلم/المسافرین 25 (759)، سنن ابی داود/ الصلاة 318 (1371)، سنن النسائی/قیام اللیل 3 (1603)، والصوم 39 (2193)، والإیمان 21 (5027-5029)، و22 (5030)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 173 (1326)، موطا امام مالک/ رمضان 1 (2)، مسند احمد (2/232، 241، 385، 473، 503)، سنن الدارمی/الصوم 54 (1817)، من غیر ہذا الطریق عنہ وبتصرف بسیر فی السیاق وانظر ما یأتی عند المؤلف برقم: 808۔