جامع الترمذي حدیث نمبر: 68
Jami at-Tirmidhi 68
کتاب #1: کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
51: بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْبَوْلِ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ
باب: ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی آدمی ٹھہرے ہوئے پانی ۱؎ میں پیشاب نہ کرے پھر اس سے وضو کرے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 68]
💡 وضاحت:
۱؎: ٹھہرے ہوئے پانی سے مراد ایسا پانی ہے جو دریا کی طرح جاری نہ ہو جیسے حوض اور تالاب وغیرہ کا پانی، ان میں پیشاب کرنا منع ہے تو پاخانہ کرنا بطریق اولیٰ منع ہو گا، یہ پانی کم ہو یا زیادہ اس میں نجاست ڈالنے سے بچنا چاہیئے تاکہ اس میں مزید بدبو نہ ہو، ٹھہرے ہوئے پانی میں ویسے بھی سرانڈ پیدا ہو جاتی ہے، اگر اس میں نجاست (گندگی) ڈال دی جائے تو اس کی سڑاند بڑھ جائے گی اور اس سے اس کے آس پاس کے لوگوں کو تکلیف پہنچے گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (344)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 68 (239)، صحیح مسلم/الطہارة 28 (282)، سنن ابی داود/ الطہارة 36 (69)، سنن النسائی/الطہارة 47 (58)، و139 (221)، و140 (222)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 25 (343)، (تحفة الأشراف: 14722)، مسند احمد (2/316، 362، 364)، سنن الدارمی/ الطہارة 54 (757) (صحیح)