جامع الترمذي حدیث نمبر: 63
Jami at-Tirmidhi 63
کتاب #1: کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
47: بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ فَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ
باب: عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ ". قال: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ. قال أبو عيسى: وَكَرِهَ بَعْضُ الْفُقَهَاءِ الْوُضُوءَ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق: كَرِهَا فَضْلَ طَهُورِهَا وَلَمْ يَرَيَا بِفَضْلِ سُؤْرِهَا بَأْسًا.
قبیلہ بنی غفار کے ایک آدمی ( حکم بن عمرو ) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے ( وضو کرنے سے ) منع فرمایا ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس باب میں عبداللہ بن سرجس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ، ¤ ۲- بعض فقہاء نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے ، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ، ان دونوں نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کو مکروہ کہا ہے لیکن اس کے جھوٹے کے استعمال میں ان دونوں نے کوئی حرج نہیں جانا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 63]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (373)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الطہارة40 (82) سنن النسائی/المیاہ12 (345) سنن ابن ماجہ/الطہارة 34 (373) (تحفة الأشراف: 3421)، مسند احمد (4/213، 665) (صحیح)