جامع الترمذي حدیث نمبر: 6
Jami at-Tirmidhi 6
کتاب #1: کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
4: بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ
باب: بیت الخلاء (پاخانہ) میں داخل ہونے کے وقت کی دعا۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس بن مالک کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو پڑھتے : «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» ” اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ناپاک جنوں اور ناپاک جنیوں سے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 6]
💡 وضاحت:
۱؎: گندی جگہوں میں گندگی سے انس رکھنے والے جن بسیرا کرتے ہیں، اسی لیے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت ناپاک جنوں اور جنیوں سے پناہ مانگتے تھے، انسان کی مقعد بھی قضائے حاجت کے وقت گندی ہوتی ہے اس لیے ایسے مواقع پر خبیث جن انسان کو اذیت پہنچاتے ہیں، اس سے محفوظ رہنے کے لیے یہ دعا پڑھی جاتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح انظر ما قبله (5)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق علیہ
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 1011) (صحیح)