جامع الترمذي حدیث نمبر: 586
Jami at-Tirmidhi 586
کتاب #7: کتاب: سفر کے احکام و مسائل
60: باب ذِكْرِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْجُلُوسِ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ صَلاَةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ
باب: نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک مسجد میں بیٹھنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو ظِلَالٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى الْغَدَاةَ فِي جَمَاعَةٍ ثُمَّ قَعَدَ يَذْكُرُ اللَّهَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَانَتْ لَهُ كَأَجْرِ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ " قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَامَّةٍ تَامَّةٍ تَامَّةٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، قَالَ: وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، عَنْ أَبِي ظِلَالٍ، فَقَالَ: هُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَاسْمُهُ هِلَالٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے نماز فجر جماعت سے پڑھی پھر بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا رہا یہاں تک کہ سورج نکل گیا ، پھر اس نے دو رکعتیں پڑھیں ، تو اسے ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب ملے گا “ ۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پورا ، پورا ، پورا ، یعنی حج و عمرے کا پورا ثواب “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے ( سند میں موجود راوی ) ابوظلال کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : وہ مقارب الحدیث ہیں ، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ ان کا نام ہلال ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 586]
💡 وضاحت:
۱؎: آج امت محمدیہ «على صاحبها الصلاة والسلام» کے تمام ائمہ اور اس کے سب مقتدی اس اجر عظیم اور اول النہار کی برکتوں سے کس قدر محروم ہیں، ذرا اس حدیث سے اندازہ لگائیے۔ «إلاما شاء الله اللهم اجعلنا منهم»
قال الشيخ الألباني:
حسن، التعليق الرغيب (1 / 164 و 165)، المشكاة (971)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(586) إسناده ضعيف ¤ أبو ظلال ھلال بن أبى ھلال ضعيف (تق:7349) وقال الھيثمي: وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 384/10) وقال: والأكثر على تضعيفه (أيضاً 36/1ٌ) وللحديث شواھد ضعيفة في مجمع الزوائد (106/10) والترغيب (166/1) وغيرھما
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1644) (حسن)