جامع الترمذي حدیث نمبر: 58
Jami at-Tirmidhi 58
کتاب #1: کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
44: بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلاَةٍ
باب: ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ " , قال: قُلْتُ لِأَنَسٍ: فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ أَنْتُمْ؟ قَالَ: كُنَّا نَتَوَضَّأُ وُضُوءًا وَاحِدًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْمَشْهُورُ عَنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، وَقَدْ كَانَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يَرَى الْوُضُوءَ لِكُلِّ صَلَاةٍ اسْتِحْبَابًا لَا عَلَى الْوُجُوبِ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے باوضو ہوتے یا بے وضو ۔ حمید کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی الله عنہ سے پوچھا : آپ لوگ کیسے کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم ایک ہی وضو کرتے تھے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- حمید کی حدیث بواسطہ انس اس سند سے غریب ہے ، اور محدثین کے نزدیک مشہور عمرو بن عامر والی حدیث ہے جو بواسطہ انس مروی ہے ، اور بعض اہل علم ۲؎ کی رائے ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو مستحب ہے نہ کہ واجب ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 58]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں پڑھتے تھے۔
۲؎: بلکہ اکثر اہل علم کی یہی رائے ہے۔
۲؎: بلکہ اکثر اہل علم کی یہی رائے ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف صحيح أبى داود تحت الحديث (163)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ محمد بن حميد بن حيان الرازي ضعيف ضعفه الجمهور ... وابن إسحاق مدلس (... د292) وعنعن إن صح السند إليه والحديث الاتي (الأصل: 60) يغني عنه .
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 740) (ضعیف) (محمد بن حمید رازی ضعیف ہیں اور محمد بن اسحاق مدلس، اور روایت ”عنعنہ“ سے ہے، لیکن متابعت جو حدیث: 60 پر آ رہی ہے کی وجہ سے اصل حدیث صحیح ہے)