📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: جمعہ کے احکام و مسائل (كتاب الجمعة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: خطبہ کے وقت امام کی طرف منہ کرنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 509 Jami at-Tirmidhi 509
کتاب #5: کتاب: جمعہ کے احکام و مسائل
14: باب مَا جَاءَ فِي اسْتِقْبَالِ الإِمَامِ إِذَا خَطَبَ
باب: خطبہ کے وقت امام کی طرف منہ کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى الْمِنْبَرِ اسْتَقْبَلْنَاهُ بِوُجُوهِنَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَحَدِيثُ مَنْصُورٍ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ ضَعِيفٌ ذَاهِبُ الْحَدِيثِ عِنْدَ أَصْحَابِنَا، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ يَسْتَحِبُّونَ اسْتِقْبَالَ الْإِمَامِ إِذَا خَطَبَ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَلَا يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَاب عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر بیٹھتے تو ہم اپنا منہ آپ کی طرف کر لیتے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- منصور کی حدیث کو ہم صرف محمد بن فضل بن عطیہ کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- محمد بن فضل بن عطیہ ہمارے اصحاب کے نزدیک ضعیف اور ذاہب الحدیث ہیں ، ¤ ۳- اس باب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی گئی کوئی چیز صحیح نہیں ہے ۱؎ ، ¤ ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا عمل اسی پر ہے ، وہ خطبے کے وقت امام کی طرف رخ کرنا مستحب سمجھتے ہیں اور یہی سفیان ثوری ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ، ¤ ۵- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 509]
💡 وضاحت:
۱؎: سند کے لحاظ سے اس باب میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے لیکن متعدد احادیث وآثار سے اس مضمون کو تقویت مل جاتی ہے (دیکھئیے الصحیحۃ رقم۲۰۸۰) عام مساجد میں یہ چیز تو بہت آسان ہے لیکن خانہ کعبہ میں مشکل ہے، تو وہاں یہ بات معاف ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (2080)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (509) ضعيف ¤ محمد بن الفضل بن عطية:كذبوه (تق:6225) وللحديث شواھد ضعيفة عند ابن ماجه (1136) وغيره فالحديث ضعيف /وذكر البخاري فى صحيحه (قبل ح 921) موقوفاً عن عمرو أنس رضي الله عنهما وھو الصواب
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9457) (صحیح) (یہ سند سخت ضعیف ہے، اس لیے کہ اس میں راوی محمد بن فضل بن عطیہ کی لوگوں نے تکذیب تک کی ہے، لیکن براء بن عازب اور ابن عمر، انس اور ابو سعید خدری وغیرہ سے مروی شواہد کی بنا پر صحابہ کا یہ تعامل صحیح اور ثابت ہے تفصیل کے لیے دیکھئے: الصحیحة 2080)
جامع الترمذي • حدیث #509
507 508 509 510 511
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ