جامع الترمذي حدیث نمبر: 494
Jami at-Tirmidhi 494
کتاب #5: کتاب: جمعہ کے احکام و مسائل
وَرَوَاهُ يُونُسُ، وَمَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ؟ فَقَالَ: مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ النِّدَاءَ وَمَا زِدْتُ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ، قَالَ: " وَالْوُضُوءُ أَيْضًا، وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْغُسْلِ ". حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ،
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ جمعہ کے روز خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران صحابہ میں سے ایک شخص ۱؎ ( مسجد میں ) داخل ہوئے ، تو عمر رضی الله عنہ نے پوچھا : یہ کون سا وقت ( آنے کا ) ہے ؟ تو انہوں نے کہا : میں نے صرف اتنی دیر کی کہ اذان سنی اور بس وضو کر کے آ گیا ہوں ، اس پر عمر رضی الله عنہ نے کہا : تم نے صرف ( وضو ہی پر اکتفا کیا ) حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کا حکم دیا ہے ؟ [سنن ترمذي/حدیث: 494]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مراد عثمان رضی الله عنہ ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (367)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجمعة 2 (878)، صحیح مسلم/الجمعة (845)، (تحفة الأشراف: 10519) (صحیح)